Mustanser Hussain Tarar

مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین  تارڑ ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کی کئی اصناف پر اپنے فن کے گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔ بطور سفر نامہ نگار اپنے قارئین سے سندِ قبولیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے صنفِ ناول نگاری میں قدم رکھا تو اس صنف میں بھی بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کو لوہا منوایا۔ وہ ایک مستند افسانہ نگار، کالم نگار، خاکہ نگار اور ایک ڈرامہ نگار کے پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا دنیائے ادب سے اعتراف کرا چکےہیں۔ وہ ایک کل وقتی ادیب اور بیسٹ سلر قلمکار ہیں ۔گویا کمالاتِ فکر و فن کا چمنستان کھلا ہوا ہے جو لفظوں کی گرفت میں لانا بہتے پانی میں گرہ لگانے کے مترادف ہے ۔ دنیا بھر میں ان کے فن پر لکھا گیا اور لکھا جارہا ہے۔ جامعات میں ان کی شخصیت اور فن پر تحقیقی مقالات قلمبند کیے گئے ہیں ۔

دریائے چناب کے کنارے واقع معروف قصبہ جوکالیاں جو پہلے ( گجرات اور اب تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین ) کا حصہ ہے چودھری محکم دین کا کاشتکار خاندان صدیوں سے مقیم تھا۔۔۔

چودھری محکم دین کا تعلق جاٹ ( تارڑ ) برادری سے تھا۔۔۔ ان کے بیٹے کا نام چودھری امیر بخش اور ان کے اکلوتے بیٹے کا نام چودھری رحمت خان تارڑ تھا۔۔۔یہ باپ بیٹے بھی اپنے آبائی پیشے کاشتکاری سے وابستہ چودھری رحمت خان تارڑ اگر چہ میٹرک تک تعلیم تک حاصل کر سکے۔۔ لیکن لکھنے پڑھنے کا شدید اشتیاق عمر بھر ان کا رفیق اور رہبر رہا۔۔۔ چودھری رحمت خان تارڑ جوکالیاں کے اس جاٹ خاندان کے پہلے فرد تھے جہنوں نے تلاش معاش کے لیے 1928 میں لاہور کا رخ کیا۔۔۔ لاہور پہنچ کر وہ مختلف پھلوں اور سبزیوں کے بیجوں کی خرید وفروخت کے کاروبار سے وابستہ ہوگے اور انہوں نے گوالمنڈی میں اپنی ” کسان اینڈ کمپنی ” کے نام سے دکان کھول لی۔۔ 1940 میں چودھری رحمت خان نے زرعی نوعیت کے ایک نعیدے کاشتکار جدید کا بھی اجرا کیا اور زراعت سے متعلق کم و بیش پچیس کتابیں تصنیف کیں جو اردو میں علم زراعت کے حوالے سے اولین تصنیف تھیں۔۔ چودھری رحمت خان کو رب کائنات نے تین بیٹوں اور تین ہی بیٹیوں سے نوازا۔۔۔ چودھری رحمت خان کے ہاں یکم مارچ 1939 کو لاہور میں ” مستنصر حسین تارڑ پیدا ” ہوئے۔۔۔ بہن بھائیوں میں آپ سے سے بڑے ہیں۔۔ تارڑ کی پیدائش کی خوشخبری ایک خط کے ذریعے ان کے گاؤں میں مقیم دادا اور دادی کو دی گئی۔۔۔ اس حوالے سے تارڑ بتاتے ہیں کہ :

” میرے دادا کھیتوں کا کام کاج کر کے گھر میں داخل ہوئے تو دادی نے دادا کو میرے پیدائش کی خبر سنائی۔۔ انہوں نے اپنی پگڑی اتار کر صحن میں بچھا دی اور کہا سارے گاوں کو اطلاع دے دو کہ میرے ہاں پوتا ہوا ہے اور یہ پگڑی میں نے مبارکباد کے لیے بچھائی ہے۔۔۔”

دادی اپنے پوتے کا نام لعل خان رکھنا چاہتی تھیں لیکن نوزائیدہ بچے کے ماموں نذیر حسین چیمہ جو کہ عباسی خلیفہ مستنصر کے بڑے فین تھے۔۔۔ انہوں نے اپنے بھانچے کا نام مستنصر حسین رکھنے پر اصرار کیا اور پھر اسی نام پر اتفاق ہوگیا۔۔۔

بچپن میں اپ کو نانی اپنی سہولت کے لیے ” تنصی ” کے نام سے پکارا کرتی تھیں۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے اپنے والد محترم کی دلکش اور دلآویز شخصیت کے بارے میں ایک انٹرویو میں بتایا ۔۔

” میرے والد رحمت خان جاٹ برادری اور علاقے میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس جماعتیں پاس کی تھیں۔۔ وہ ایک محنتی شحص تھے۔۔ انہوں نے لاہور اپنا کاروبار establish کیا۔۔ 85 سال کی عمر تک میں نے سب سے بڑی گالی ان کی زبان سے صرف یہی سنی کہ تو بڑا ألو ہے۔۔ وہ اس سے آگے جا ہی نہیں سکتے تھے۔۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میرے والد نے مجھے اپنی پوری زندگی میں ہاتھ تک نہیں لگایا۔۔۔ وہ بچوں کو زردکوب کرنے کو معیوب سمجھتے تھے۔۔۔ انہوں نے مجھے پوری آزادی دی۔۔ میں چھٹی جماعت میں منٹو ، بیدی ، بلونت سنگھ ، ایم اسلم جسے ادیبوں اس وقت کے معروف رسائل اور ناول پڑھا کرتا تھا۔۔۔ وہ مجھے منع نہیں کرتے تھے۔۔۔ وہ مجھ پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔۔۔ مجھے ان کی طرف سے جتنی آزادی ملی ہوئی تھی میں اتنا ہی اپنے ہی اپنے آپ کو زمہ دار فرد محسوس کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ میں اپنی کسی حرکت سے اپنے والد کو مایوس نہ کروں۔۔۔ سو میں دوسرے بہن بھائیوں سے ذیادہ زمہ دار ہوتا تھا۔۔۔ مثال کے طور پر وہ ابھی حیات تھے اور میرے بچے تقریباً جوان ہوچکے تھے۔۔۔ تب بھی میں انھیں بتا کر جاتا تھا کہ میں گھر سے باہر جارہا ہوں۔۔۔ اتنے بجے واپس آ جاؤں گا۔۔۔ جن دنوں والد صاحب بیمار ایک دن ان کی طبعیت تھوڑی سی اکھڑی ہوئی تھی اور وہ مجھے قدرے اذیت میں محسوس ہوئے۔۔۔ میں ان کی چارپائی کے ساتھ دیوار پر ہاتھ رکھا اور میں نے دعا کی کہ یااللہ یہ تو جانتا ہے کہ یہ بندہ فرشتوں سے کم نہیں ہے اور اس ساری عمر خلق خدا میں کسی کو دکھ نہیں دیا تو اس بندے کو صحت یاب کردے یا اس کا امتخان آسان کر دے۔۔۔۔ اس کے دس منٹ ان کا انتقال ہوگیا۔۔۔ میرے والد ایک پارس تھے۔۔۔ ان کی پاس جو بھی بیٹھتا تو وہ ایک بہتر انسان بن کر اٹھتا تھا۔۔۔ میں انھیں ائیڈلایز کرتا ہوں۔۔۔ وہ مجھے اکثر نصیحت کیا کرتے تھے کہ تمہیں کوشش کرنی ہے کہ تمہارے ہاتھ سے خلق خدا میں کسی کو دکھ نہ پہنچے۔۔ میرے بیوی آج تک یہی کہتی ہے کہ اپنے والد کے بعد تمہارے والد تھے جنہوں نے مجھے محبت دی اور میں نے ان سے بڑا انسان نہیں دیکھا اور ہمیشہ یہ کہتی ہیں کہ تم میں ان کی خصلتیں کیوں نہیں آئیں۔۔

مستنصر حسین تارڑ کی والدہ کا تعلق گکھڑ منڈی کے چیمہ خاندان سے تھا۔۔۔ ان کا نام نواب بیگم تھا۔۔۔ تارڑ کی والدہ روز مرہ کی گفتگو میں بے تکلف محاورے کا استعمال کرتی تھیں اور ان کے منہ سے نکلنے والے تمام محاوروں کا تعلق زمین ، پرندوں ، اور درختوں سے ہوتا تھا۔۔۔۔

چناب کنارے آباد تارڑ کا خاندان راوی کنارے ، لاہور منتقل ہوا تو پہلے پہل یہ خاندان چیمپر لین روڈ پر واقع ایک وسیع مکان میں قیام پذیر رہا بعد ازاں یہ خاندان اپنے تعمیر کردہ گھر واقع 22 جے گلبرگ تھری منتقل ہوگیا۔۔۔

کچھ عرصے قبل یہ مکان اکامی ادبیات کو کرایے پر دے دیا۔۔

#_2_بچپن_لڑکپن 

اپنے بچپن کے حوالے سے تارڑ نے دو دلچسپ واقعات راقم کو سنانے۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ :

” کم سنی کے زمانے میں میں نے گھر رکھی بہت سی چوہے مار گولیاں کھا لیں۔۔۔ میرے منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور میں بے خوش ہوچکا تھا۔۔۔ والدہ کی اچانک نظر پڑ گئی۔۔۔ انہوں نے مجھے غیر ارادی طور پر گرائپ واٹر پلا دیا۔۔۔ والدہ کا یہ اقدام بہت مفید ثابت ہوا۔۔۔ مجھے بہت ذیادہ قے آگئی اور معدہ زہر کے اثر سے پاک ہوگیا اور میں موت کے منہ میں جانے سے محفوظ رہا۔۔۔”

بچپن کے زمانے کا دوسرا دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ :

” گلی میں سے گزرنے والے ایک بردہ فروش نے مجھے مٹھائی کھلائی اور مجھے اپنے شانوں پر بٹھا کر اغواء کر کے ریلوے سٹیشن کی طرف تیز تیز قدم چل پڑا۔۔ ۔ حسن اتفاق سے اباجی کے دوست نے مجھے دیکھ لیا۔۔۔ بردہ فروش کو پکڑ لیا اسے قلعہ گجر سنگھ تھانے کے حوالے کیا اور مجھے میرے گھر پہنچا دیا۔۔۔ "

مستنصر حسین تارڑ کے والد اپنے کاروبار کے سلسلے میں محتلف شہروں میں رہے۔۔ اس لئے تارڑ کا بچپن مختلف شہروں میں گزرا۔۔۔ تارڑ نے عام مسلمانوں کی طرح ابتدائی تعلیم کا آغاز اندرون لاہور کی ایک جگہ ایک مسجد ” تاجے شاہ ” سے کیا۔۔۔ وہاں انہوں نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔۔۔ انہیں اس مسجد میں ایک سخت گیر مولوی سے واسطہ پڑا جس کی نتیجے یہ نکلا کہ تارڑ سر عمر بھر مولوی صاحبان کے بارے میں اچھی رائے وضع نہ کر سکے ۔۔۔ اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں۔۔

” وہاں کے قاری صاحب ہم سب بچے بچیوں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے بلند آواز سے باجماعت نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھاتے تھے۔۔۔ ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہوتی تھی۔۔ جس سے وہ ہماری قطاریں بھی سیدھے کرتے اور نماز بھول جانے والے بچے کو پیچھے ٹانگوں پر پنڈلیوں پر مارتے بھی تھے۔۔ میں بہت چھوٹا تھا۔۔۔ ڈر کے مارے آنسو نکل رہے ہوتے تھے سی نے پر ہاتھ باندھ کر زور زور سے نماز پڑھا کرتا تھا۔۔۔ ہر وقت یہ خوف رہتا تھا کہ ابھی پیچھے سے چھڑی پڑے گی۔۔۔ وہ بچے بچیوں کو بہت مارا کرتا تھا۔۔۔ اس لیے میں ان کو پسند نہیں کرتا تھا۔۔ اس لئے بچپن ہی سے میں قاری صاحباں اور مسجد کے مدارس سے الرجک رہا۔۔۔۔

تارڑ کے بچپن کی حسین یادیں جن آبائی محسنوں سے وابستہ ہیں ان کی میں ایک ان کی نانی جان کا صحن ہے اور دوسرا آبائی گھر کا صحن۔۔۔ اس حوالے سے انہوں نے راقم کو یہ بتایا کہ :

” اپنی نانی جان حاجن فاطمہ۔۔۔۔۔ بےبے جی کا صحن۔۔۔ جس کے ایک کونے میں دھریک کا ایک درحت تھا۔۔۔ اتنے پتے گرتے کہ حاجن خورشیدہ کے لیے وبال جان ہوجاتے۔۔۔ وہ دن میں دو مرتبہ صحن میں جھاڑو پھیرتی تو بھی ہر جانب زرد پتے سرکتے رہتے۔۔۔ دوسرے کونے میں کوٹھے پر جانے والی کچی سیڑھیاں تھیں جن کے تلے سلگتے اپلوں پر دھری چاٹی میں دھیرے دھیرے گرم ہوتے دودھ کی سطح پر خزان رنگ پتوں ایسے تانبے رنگ کی بالائی کی تہہ اتنی گھنی ہوتی کی انگلی چھو کر اس میں چید کرنا مشکل ہو جاتا ۔۔۔ اور ایک اور صحن جو میرے بدن میں آباد میرے آبائی گھر کا ہے جس کی ایک کونے میں کسی زمانے میں بیری کا ایک تناور درخت ہوا کرتا تھا اور میری دادی جان نے یہ خبر لانے کے بعد کہ ان اکلوتے بیٹے کے ہاں اولاد متوقع ہے انہوں نے ایک شب خواب میں دیکھا کی صحن کی بیری کی ہر شاخ پر دئے جل رہے ہیں۔۔۔ اور وہ اگلی سویر بھاگی بھاگی مولوی نوردین کے پاس گئی کہ یہ کیسا خواب ہے۔۔۔
تو انہوں نے کہا کہ بی بی تیرے ہاں ایک پوتا ہوگا اور اس کے دئیے جلیں گے روشنی کرے گا۔۔

#3_تعلیم 

مستنصر حسین تارڑ نے پہلی اور دوسری جماعت اپنے زمانے کے مشہور سکول رنگ محل مشن ہائی سکول لاہور سے پاس کی۔۔۔ اس دوران ان کے والد نے گکھڑ منڈی میں بہت بڑا زرعی فارم قائم کیا تو اس کا کاروبار کے سلسلے میں ان کے خاندان کو وہاں منتقل ہوجانا پڑا۔۔۔ نارمل سکول گھکڑ منڈی سے تارڑ نے تیسری اور چوتھی جماعت کا امتحان پاس کیا۔۔ وہاں ان کے والد صحیح طور پر settle نہ ہوسکے تو دوبارہ واپس لاہور آنا پڑا۔۔۔ دوبارہ لاہور آکر تارڑ نے رنگ محل مشن ہائی سکول کے درجہ پنجم میں داخلہ لیا۔۔۔ وہاں سے پرائمری پاس کر لینے کے بعد وہ چھٹی جماعت کے لیے مسلم ماڈل ہائی سکول لاہور ، جو کہ گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی سے متصل ہے داخل ہوگے ۔۔۔ انہوں نے سکول سے 1954 میں میٹرک پاس کیا۔۔۔ اس سکول میں زمانہ متعلمی میں سکول کی بزم ادب کے سیکرٹری کے لیے انتخاب لڑا۔۔۔ عمر فاروق مودودی کو شکشت دے کر کامیابی حاصل کی۔۔ میٹرک کے بعد انٹر کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔۔۔ گورنمنٹ کالج کے زمانہ طالب علمی میں قائم کالج کے ہائیکنگ اور مونیٹرنگ کلب کے ساتھ وادی کشن کنگا مہم کے لیے کشمیر گئے۔۔۔۔تارڑ کی تشکیل شخصیت میں اس مہم میں شرکت نہایت اہم واقعہ ہے۔۔۔

کالج نوٹس بورڈ پر آویزاں تھا۔۔۔

” #وادی_کشن_گنگا_مہم۔۔۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں تارڑ کے باطن میں کوہ نوردی کے پہلے جراثیم انجیکٹ کئے گئے اور یہیں سے ہی کوہ نوردی کی دیوانگی نے ان کے اندر جنم لیا۔۔۔
گورنمنٹ کالج لاہور میں تارڑ انٹرمیڈیٹ میں زیر تعلیم ہی تھے کہ والد نے انھیں ہوزری ٹیکسٹائل میں ڈپلومے کے حصول کے لیے انگلینڈ روانہ کر دیا۔۔۔۔۔
اگر چہ ان کے والد کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی تھی کہ ان کا بیٹا بیرسٹر بنے مگر بیٹے کا تو سرے سے پڑھائی میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔۔۔ بہرحال انہوں نے وہاں ٹیکنیکل کالج نوٹنگھم میں تعلیم حاصل کی۔۔۔ اس تعلیم سے فراغت کے بعد وہ اسے پیشے کے طور پر نہ اپنا سکے۔۔۔ بعد ازاں انہوں نے ایجوکیشن میں جنرل سرٹیفیکیٹ حاصل کیا لیکن اس دوران بھی وہ سنجیدہ نہیں تھے۔۔۔ تعلیم کی طرف عدم دلچسپی کا نتیجہ یہ نکلا کہ قیام انگلینڈ کا بیشتر حصہ آوردہ گردی میں گزرا۔۔۔ انہوں نے وہاں تھیڑ اور موسیقی کو اپنی تمام تر دلچسپیوں کا مرکز بنا لیا۔۔۔ اس عرصے میں تارڑ نے وکٹر سلوسٹر سکول آف ڈانسنگ انگلینڈ سے وانر ، رمبا اور مشکل ترین رقص ٹینگو میں مہارت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا۔۔۔

#_4_پہلی_ادبی_تحریر 

انگلینڈ میں قیام کے دوران 1957 میں تارڑ کو ماسکو جانے کا سنہری موقع میسر آیا۔۔۔ انہوں نے ماسکو میں منعقد یوتھ فیسٹیول میں برطانوی وفد کے ایک پاکستانی ممبر کی حیثیت سے شرکتِ کی۔۔۔

اس حوالے سے تارڑ کی ایک تحریر کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔۔۔

” ماسکو پہنچتے ہی برطانوی وفد میں شامل پاکستانیوں نے اپنے راستے الگ کر لیے۔۔۔ فیصلہ ہوا کہ ہم ایک پاکستانی وفد کے طور پر اپنی شناخت کروائیں گے۔۔۔ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔۔۔ بے شک پاکستان کے وزیراعظم نے ہم ماسکو جانے والوں غدار قرار دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ پاکستان واپسی پر ہمیں کراچی ایئرپورٹ سے سیدھا میانوالی جیل لے جایا گا۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ہم ایک پاکستانی وفد کی صورت یوتھ فیسٹیول میں شرکت کریں گے۔۔۔ ان بے راہ رو نوجوانوں میں میاں افتخار الدین کا بیٹا عارف افتخار بھی شامل تھا جو ان دنوں شاید کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔۔۔ آئی آئی چندریگر کا ایک بیٹا یا کوئی عزیز۔۔۔۔ فیروز خان نون کا بھتیجا خالق داد نون تھا۔۔۔ گورا چٹا دراز قد ملک سعید حسن تھا جو بعد میں ہائی کورٹ کا جج ہوا اور جس کے ہمشیر سے جنرل شفیق الرحمن نے شادی کی۔۔۔ مشرقی جرمنی سے آنے والا اسد اللہ تھا جس نے منٹو پر تخقیقی کام کیا۔۔۔ یہ سب انقلاب کے ڈسے ہوئے لوگ تھے اور میں ان سب میں سب سے کم عمر تھا اور ابھی سے جانے کے لائق نہ تھا اگر چہ مجھ پر اثر ہوچکا تھا۔۔۔

تارڑ آہنی پردے کے پار سے واپس انگلینڈ پہنچے تو انھیں لندن میں مقیم روزنامہ نوائے وقت کے مجید نظامی نے پیشکش کی کہ وہ اس سفر کی روئیداد قلمبند کریں تاکہ پاکستان کے عوام آگاہ ہو سکیں کہ آہنی پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔ وہاں کے لوگ کیسے ہیں اور کمیونزم کا نظام کم مراخل سے گزر رہا ہے۔۔۔۔

تارڑ اس پیشکش کے حوالے سے لکھتے ہیں۔۔۔

” اس غیر متوقع پیشکش سے میں ذرا گڑ بڑا گیا کہ میری کتابوں میں کہیں لکھاری بننا نہ لکھا تھا ، اگر چہ پڑھا تو بہت کچھ تھا لیکن ابھی دو چار بچوں کے رسالوں میں ایک دو کہانیوں اور لطیفوں وغیرہ کے سوا لکھا کچھ نہ تھا۔۔۔ تو میں نے ٹین ایجر ہونے اور اس مقابلے میں ناتجربہ کار ہونے کے دلائل پیش کیے جو نظامی صاحب نے رد کر دیے۔۔۔ آپ جو لکھ سکتے ہیں ، لکھیں ہم اصلاح کریں گے۔۔ میرے جی میں آیا جو آیا لکھ دیا اور وہ سفرنامہ چار اقساط میں ان زمانوں کے نہایت مؤقر ہفتہ وار ” قندیل ” میں ” لندن سے ماسکو تک ” عنوان سے شائع ہوگیا۔۔۔ یہ میری اولین ادبی تحریر تھی اور یہ 1958 میں تھا۔۔۔ "

تارڑ کا اردہ تھا کہ وہ مستقل رہائش اختیار کرلیں گے مگر اس دوران انھیں اپنے والد کا خط موصول ہوا جس میں انہیں واپس کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان آئیں اور کاروبار میں اپنے والد کی معاونت کریں۔۔۔ والد کا حکم ملتے ہی وہ پاکستان آگئے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔۔۔
1969 میں وہ ایک مرتبہ پھر سترہ ممالک کی by road سیاحت پر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔۔۔

#_5_نظریہ_فن

” جب اس غار تمنا میں قدم رکھنے سے بیشتر میں دوحہ قطر ایورڈ ایک ادیب کی حیثیت سے وصول کر رہا تھا تو مجھ سے کہا گیا کہ میں اپنے فلسفہ فن کے بارے میں کچھ ارشاد کروں۔۔

بس اتنا کہا کہ مجھے تو کچھ علم نہیں کہ میرا فلسفہ کیا ہے اور فن کیا ہے۔۔۔۔ بس یہ معلوم ہے کہ کبھی اوپر والے نے نیچے نظر ڈالی تو اسے ایک بیکار ، سست ، بے بہرہ اور بے علم شخص نظر آیا جو کتابوں میں گم رہتا ہے اور خواب دیکھتا ہے۔۔۔ جو نہ کسی کاروبار میں کامران ہوسکتا تھا اور نہ اسے کوئی ڈھنگ کی ملازمت مل سکتی تھی۔۔۔ اس کے رزق کا کچھ وسیلہ نہ بن سکتا تھا تو اس نے سوچا کہ اس بندے کا کیا کروں۔۔۔ یہ کم بخت تو ادب اور تاریخ کی پرچھائیوں میں گم بھوکا مر جاے گا ، خوار ہو جائے گا۔۔۔ اس نے بھی تو حیات کے دن کاٹنے ہیں تو اس کا کیا بندوبست کروں۔۔۔ تو کیوں نہ اسے وقتی طور پر کچھ عزت عطا کروں ۔۔۔۔ تھوڑی شہرت اس کے نام کر دوں بے شک یہ اس کے قابل نہیں ہے۔۔۔ تاکہ یہ زندگی گزار سکے تو اس کے سوا نہ کوئی میرا فن ہے اور نہ کوئی فلسفہ۔۔۔ بس ایک عنایت کی نظر ہے۔۔ اگر میں اتنا بے کار نہ ہوتا تو اس کی نظر مجھ پر کبھی نہ ٹھہرتی۔۔۔

تارڑ کے نظریہ فن اور تخلیقی عمل کے حوالے سے ان کی ایک انٹرویو کا یہ حصہ بھی ہمارے معاونت کرتا ہے۔۔ یہ بھی دیکھ لیجیے۔۔۔

” ہر بار جب کوئی ناول یا سفر نامہ مکمل کرتا ہوں تو ذہن اتنا خالی ہوجاتا ہے کہ مجھے کامل یقین ہوجاتا ہے کہ میں آئندہ کبھی ایک حرف بھی نہیں لکھ پاؤں گا۔۔۔ کہ جو کچھ میرے احساسات اور تخلیق کی سطح پر موجود تھا وہ سب صرف ہوگیا لیکن خالی کوزہ میری بے خبری میں ہولے ہولے بھرنے لگتا ہے اور کوئی ایک شام ایسی آتی ہے کہ جب کوئی ناول کوئی سفر نامہ چھلکنے لگتا ہے۔۔۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب میں پھر سے قلم تھام لیتا ہوں کیا میں نے جو لکھنا تھا لکھ لیا۔۔۔؟

اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے تو کچھ بھی لکھنا نہیں تھا ، جو لکھا ہے وہ لکھوایا گیا ہے۔۔۔
ائندہ بھی اگر لکھوایا گیا تو لکھوں گا۔۔۔!! حوالہ : کتاب۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ : شخصیت اور فن
مصنف۔۔۔ ڈاکٹر غفور شاہ قاسم

<span>%d</span> bloggers like this: