Home

Mustansar

Hussain Tarar

اس کے لفظوں نے دیا دل کو سہارا ایسا
اب کسی اور سہارے کی ضرورت ہی نہیں

اس کی تحریر نے یوں دل میں بسائے سپنے
اب کسی اور رسالے کی ضرورت ہی نہیں

اسکی نظروں نے ہمیں یوں ہے دکھائی دنیا
اب کسی اور نظارے کی ضرورت ہی نہیں

اس نے ہر نثر میں یوں بند کیا موت و حیات
اب کسی اور اشارے کی ضرورت ہی نہیں

اس کے حرفوں نے بیاں کر دیا یوں نظم و غزل
اب کسی اور استعارے کی ضرورت ہی نہیں

اس کے لکھے نے متا ثر کیا یوں برسو ں سے
اب کسی دوسرے پیارے کی ضرورت ہی نہیں
آفتاب احمد

ریڈرز ورلڈ


کتابوں سے محبت کرنے والے لوگ صرف اُس میں موجود لفظوں سے ہی نہیں بلکہ اُس کی خوشبو اور لمس سے بھی عشق رکھتے ہیں اور اُن کی تسکین کتاب کو ہاتھ میں لےکرپڑھنے سے ہی ہوتی ہے۔ایسے افرادزیادہ تر اپنے پسندیدہ اور  مخصوص مصنفین کو ہی پڑھتے ہیں اور نہ صرف اُنہیں پڑھتے ہیں بلکہ اُن سے عشق رکھتے ہیں اور اُنھیں اپنا مرشد سمجھتے ہیں۔ایسے ہی  کتابوں کے کچھ عشاق نے فیس بک پر’مستنصر حسین تارڑ ریڈرز ورلڈ  ‘کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا  جو کہ ہمارے ملک کے مایہ ناز مصنف مستنصر حسین تارڑ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا۔

تکیہ تارڑ

‘تکیہ’ بنیادی طور پر بیٹھنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے اور پنجاب میں خصوصاً اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں بیٹھ کر قصّے کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ اس محفل کے انعقاد کے لئے صرف پُر سکون ماحول میں بیٹھنے کی جگہ ، چند کتابیں اور ایسے دوستوں کی ضرورت ہوتی ہیں جو کتابوں سے شغف رکھتے ہو۔

مستنصر حسین تارڑ کی کتابیں

ریویو

ظمیٰ جبیں

​”بہاؤ——-ادب کی مونا لیزا”
 میں نے پہلے بھی ایک بار کہا تھا کہ تارڑ صاحب انسانی فطرت کےاسرار ورموز سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اسی لئےان کے قلم سے حیات پانے والی  تحریریں ہمیں اپنے دل سے اٹھنے والے سوالوں کا جواب محسوس ہوتی ہیں،میرے لئے ‘بہاؤ’ بھی ایک ایسی تحریر ہے جو میرے بہت سے سوالوں کا جواب ہے-تاریخ کی طالبعلم ہونے کی بنا پر ماضی سے میرا رابطہ استوار رہتا ہےاور وہیں یہ سوال بار بارسر اُٹھاتا رہا ہے کہ تاریخ ہمیشہ سیا سی بنیادوں پر کیوں مرتب کی جاتی ہے-کیا یہ کھلا تضادنہیں کہ حاکم کا تذکرہ تو ہو لیکن محکوموں کی کوئی خیر خبر پتہ نہ چلے، بھلا یہ کیا بات ہوئی ؟ پھر وقت نے سمجھایا کہ تاریخ حکمرانوں کی اور ادب عوام کی زندگی کا آئینہ ہوا کرتا ہے-یہ گتھی سلجھی تو میں نے ادب کو کھنگالنا شروع کیا-قرۃ العین حیدر کی تحریریں ہوں،انتظار حسین کی یا منشی پریم چند کی ان میں ایک عہد کے لوگوں کی زندگیاں حنوط ہو چکی ہیں ،جو ہمارے جیسے طالبعلموں کے لئے سماجی تاریخ کا ایک دلچسپ اور متنوع عجائب گھر ہیں- کسی ادیب کے لئے اپنے عہد کی بات کرنا ایک فطری عمل ہے لیکن یہ آیک کاری گری ہے کہ وہ آنے والے عہد کی منظر کشی کرے یا گذرے عہد کو مجسم کر کےپیش کر دے اس عمل میں اس کی تخلیقیت اپنی معراج پر ہوتی ہے-ایسا ہی کچھ بہاؤ میں نظر آتا ہے-یہ وقت کا بہاؤ بھی ہے ،زندگی کا بہاؤ بھی ،زندگی بخش پانی کا بہاؤ بھی، تاریخ کا بہاؤ بھی،جذبات اور احساسات کا بہاؤ بھی اور سوچ کا بہاؤ بھی جس کے ساتھ تارڑ صاحب نے حال سے ماضی کا سفر کیا-ان کی کردار نگاری اس ناول میں بھی اپنے عروج پر ہے -کیونکہ ان کےتخلیق کردہ کرداروں کے ساتھ ہماراایک تعلق بن جاتا ہے اور ناول ختم کرنے کے بعد وہ صفحات میں دفن نہیں رہ جاتے بلکہ اس سے باہر نکل آتے ہیں ہمارے ساتھ ہی رہنے لگ جاتے ہیں -ہم ان کو بھول نہیں جاتے بلکہ ورچن اور پاروشنی ایک استعارہ بن جاتے ہیں——امر ہو جاتے ہیں اور یہی تخلیق کار کا کمال ہے۔

قومی بچت کے بابوں کی تعظمر کے ک

قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے اتوار 20 اکتوبر 2019ء ویسے تو بڑھاپا ایسی بلائے ناگہانی ہے کہ اس کا شکار ہونے والے ہر شخص پر ترس آتا ہے لیکن دو مقامات ایسے ہیں جہاں بیٹھے ہوئے منتظر بوڑھے دیکھ کر قدرے دکھ ہوتا ہے۔ ایک تو کسی ہسپتال میں‘ کسی ڈاکٹر کے کمرے"قومی بچت کے بابوں کی تعظمر کے ک” پڑھنا جاری رکھیں

تنہائی کے سو رُوپ ہیں

تنہائی کے سو رُوپ ہیںمستنصر حسین تارڑبدھ 09 اکتوبر 2019ءتنہائی کے سو روپ ہیں۔ اس کا ایک روپ ایسا ہے جس میں انسان خود ایک اداسی گھولتا ہے اور اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کر کے ایک لطف سے آشنا ہوتا ہے جیسے آج تنہائی کسی ہمدمِ دیرینہ کی طرح کرنے آئی ہے میری"تنہائی کے سو رُوپ ہیں” پڑھنا جاری رکھیں

بچے جتنے کچّے اتنے ہی میٹھے

بچے جتنے کچّے اتنے ہی میٹھے بدھ 16 اکتوبر 2019ء کیا نوجوان طالب علموں اور بچوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟ کیا انہیں کسی بھی سیاسی تحریک میں جھونک دینا مناسب ہے؟ لکشمی مینشن نام کی ایک کولونئیل عمارت جو رہائشی فلیٹوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی اور پھر تاجر"بچے جتنے کچّے اتنے ہی میٹھے” پڑھنا جاری رکھیں

آوارگی میں ہم نے کتابوں کی سیر کی

اتوار 20 جنوری 2019ء لائبریری کے سوا ایک اور مقام ایسا ہے کہ آپ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے لے جائیے اور میں کچھ دیر کے بعد آپ کو بتا دوں گا کہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں۔ انارکلی ‘ مال روڈ اور پاک ٹی ہائوس کے باہر فٹ پاتھوں پر پرانی"آوارگی میں ہم نے کتابوں کی سیر کی” پڑھنا جاری رکھیں